سہاتے تھے شہ دھن سوں اس وقت یوں
کہ ہرنی کوں لے بیٹتا باگ جیوں
۔۔۔۔۔ بمنت اور خوشامد سمجھایا کہ اے ہرنی یہ وقت بے وفائی کا نہیں ہے ۔
(۱۸۴۵ ، حکایت سخن سنج ، ۱۲۲) ۔
ہرنی کو کس نے کھول دیا ، یہ آج ماجرا کیا ہے ۔
(۱۸۸۰ ، فسانہء آزاد ، ۳ : ۴۰۴) ۔
اس ارادے سے اٹھا کہ کوئی ہرنی پاس سے گزرے تو ٹانگ پکڑ کے گرا لے ۔
(۱۹۰۰ ، ایام عرب ، ۲ : ۸) ۔
یہ ایک بے چین ہرنی کی طرح ڈری ڈری لگتی ہے ۔
(۲۰۰۱ ، آئس لینڈ ، ۱۳۹) ۔
محلہ والیوں کی سرگوشیاں جاری رہیں ، ’’ہرنی ہے ہرنی‘‘ ۔
(۱۹۶۱ ، علی پور کا ایلی ، ۲۲۸) ۔