ویران ہونے کی حالت ، ویرانی ؛ (مجازاً) سناٹا ؛ اُداسی (رک : ویرانی جو درست املا ہے) ۔
دنیاں سوں یو جیو پرانکو باند توں کہ ویرانگی میں نکو ناند توں
(۱۶۷۹ ، قصہء ابو شحمہ (عکسی) ، ۵۴) ۔
فصل گل میں بھی مجھے دیوانگی باقی رہی
اس جہاں آباد میں ویرانگی باقی رہی
(۱۷۴۷ ، دیوان قاسم ، ۲۰۵) ۔
وادی مجنوں حریف وحشت مجنوں نہیں
مانگ لے ویرانگی میرے جنوں آباد سے
(۱۹۱۸ ، کلیات رعب ، ۲۰۶)
] ویرانی (رک) کا غلط املا [ ۔
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .