ملک دنیا کی تو آبادی ہے ویرانہ تمام
بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
(۱۸۶۹ ، غالب ، د ، ۱۵۸) ۔ باوجود جمعیت و سامان کے بے جنگ ویران ہو گیا ۔ (۱۸۸۳ ، دربار اکبری ، ۲۴۱) ۔
گھر جو ویران ہوا اپنا تعجب کیا ہے
نالہء درد سے تو شہر اجڑ جاتے ہیں
(۱۸۹۵ ، دیوان زکی ، ۱۲۴) ۔
وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں
ڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیں
(۱۹۱۱ ، بانگ درا ، ۱۸۶) ۔ دہلی ویران ہو رہی ہے اور اس کے فرزند تلاش معاش میں دربدر اور خاک بسر پریشان حال پھرتے ہیں ۔ (۱۹۶۹ ، مقالات حافظ محمود شیرانی ، ۱۵) ۔ وہ گئے تو اس نگر کی رونق بھی چلی گئی ، اندر پرستھ ویران ہو گیا ۔ (۲۰۰۳ ، اجمل اعظم ، ۱۴) ۔ ۲۔ ویرانے کی طرح ہونا ، سنسان ہونا ، بے رونق ہو جانا ۔
رونے سیں (بھی) اون دوانے نیں کیا سیانوں کا کام
سیل سے انجھواں کے سارا شہر ویراں ہو گیا
(۱۷۱۸ ، دیوان آبرو ، ۹۹) ۔ بسا بسایا نگر ویران ہو گیا ۔ (۱۸۶۸ ، سرور (رجب علی بیگ) ، انشائے سرور ، ۶) ۔ دنیا میں اگر اہل ہمت کا وجود ہوتا ، جو دنیا کو محض ناچیز سمجھ کر اس کی طرف التفات نہ کرتے تو دنیا ویران ہو جاتی ۔ (۱۸۹۶ ، یادگار غالب ، ۱۲۶) ۔ ذرا دیر بعد سب مہمان چلے گئے تو جیسے گھر ایک دم ویران ہو گیا ۔ (۱۹۶۲ ، آنگن ، ۱۳۰) ۔
دل میں یادوں کو بسایا ہے سنبھل کر رہیے
بستیاں ہیں کبھی ویران بھی ہو جاتی ہیں
(۱۹۷۸ ، کلیات صوفی تبسم ، ۱۸۶) ۔
ویران ہوا ہوں کسی صحرا کی طرح میں
کانٹے مری آنکھوں میں ہیں اور گرد ہوا ہے
(۱۹۹۰ ، انجم اعظمی ، ساون آیا ہے ، ۱۸۸) ۔ ۳۔ گرنا ، پامال ہونا ، مسمار ہونا (فرہنگ آصفیہ) ۔
۵۔ بنجر ہونا ، بے کاشت ہونا ۔ مرے ہوئے شہر سے مراد وہ بستی ہے جو پانی نہ ہونے کے سبب ویران ہو رہی ہے ۔ (۱۹۷۱ ، معارف القرآن ، ۳ : ۵۹۵) ۔ ۶۔ تتر بتر ہونا ، بکھرنا (فرہنگ آصفیہ) ۔
وِیرانگی (ی مع ، فت ن نیز سک) امث ۔
ویران ہونے کی حالت ، ویرانی ؛ (مجازاً) سناٹا ؛ اُداسی (رک : ویرانی جو درست املا ہے) ۔
دنیاں سوں یو جیو پرانکو باند توں
کہ ویرانگی میں نکو ناند توں
(۱۶۷۹ ، قصہء ابو شحمہ (عکسی) ، ۵۴) ۔
فصل گل میں بھی مجھے دیوانگی باقی رہی
اس جہاں آباد میں ویرانگی باقی رہی
(۱۷۴۷ ، دیوان قاسم ، ۲۰۵) ۔
وادی مجنوں حریف وحشت مجنوں نہیں
مانگ لے ویرانگی میرے جنوں آباد سے
(۱۹۱۸ ، کلیات رعب ، ۲۰۶) ۔ ] ویرانی (رک) کا غلط املا [ ۔
ویرانَہ (ی مع ، فت ن) (الف) امذ ۔
۱۔ غیر آباد جگہ ؛ (کنا یۃً) صحرا ، جنگل ، بیابان (بستی کا مقابل) ۔
دیکھے رات چوتھی کوں ویرانہ ایک
اہے کارواں ہور واں خانہ ایک
(۱۶۴۹ ، خاور نامہ ،۷۳) ۔
کیا دھوم مچائی ہے صحرا میں دیوانوں نے
اس فصل مبارک میں آباد ہے ویرانہ
ملک دنیا کی تو آبادی ہے ویرانہ تمام
اور بستی ہے جہاں اک خلق بستی خوب ہے