مرے ویرانے دل میں اے پری رو! شکار آکر کرو یہ کدلی بن ہے
(۱۷۱۳ ، فائز دہلوی ، د ، ۱۸۲)
اثنائے راہ میں ایک ویرانہ گاؤں پڑا
(۱۸۹۴ ، اردو کی چوتھی کتاب ، ۱۳) ۔
۔
میرے ویرانے سے کوسوں دور ہے تیرا وطن
ہے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن
(۱۹۰۴ ، بانگ درا ، ۷۶)
] ف [
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .