کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
(۱۸۶۹ ، غالب ، د ، ۱۵۲)
ہوئیں تم رونق شہر خموشاں جب تو میں سمجھا
کہ اک بستی کی آبادی ہے میری خانہ ویرانی
اپنے دیوانے پہ اتمام کرم کر یارب
در و دیوار دیے ، اب انہیں ویرانی دے
چمن والوں سے مجھ صحرا نشیں کی بود و باش اچھی
بہار آکر چلی جاتی ہے ، ویرانی نہیں جاتی
(۱۹۵۸ ، حیدر دہلوی ، صبح الہام ، ۲۲۶)
زمین کا وہ ٹکڑا جہاں ایک بھید بھری ویرانی کا ڈیرا تھا کس طرح آباد ہوا ہے
(۱۹۹۸ ، آگے سمندر ہے ، ۱۱۱) ۔
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
پچاسویں خط میں سر ہند پر سکھوں کے مظالم اور اس کی تباہی و ویرانی کا ذکر حضرت میر اسد اللہ کے واسطے امداد کی درخواست کے سلسلے میں
(۱۹۴۶ ، شیرانی ، مقالات ، ۳ : ۸۶)
۔ جمیلہ کے دل کی ویرانی کی داستان سننے کے لیے کوئی آمادہ نہیں
۱۹۸۹ ، متوازی نقوش ، ۳۴۴)
ہوں وہ غارت زدہ رہرو کہ نمودار ہے صاف
میری صورت سے حقیقت مری ویرانی کی
نظر کی عیب جوئی دل کی ویرانی نہیں جاتی
یہ دو صدیوں کی عادت ہے بہ آسانی نہیں جاتی
یہاں بے پناہ تنہائی ہے ، ویرانی ہے اُداسی ہے
(۱۹۸۷ ، باتوں کی بارش میں بھیگتی لڑکی ، ۴۴)
۴۔ (شاذ) بے مال و اسباب ہونے کی حالت نیز مالی پریشانی ؛ مصیبت ، کسمپرسی
(۱۹۸۷ ، باتوں کی بارش میں بھیگتی لڑکی ، ۴۴)
۔ خدا نہ کرے جو بچوں کے لیے ویرانی ہو ، بچوں پر مصیبت وہاں آتی ہے جہاں کوئی سردھرا نہیں ہوتا
(۱۹۸۷ ، باتوں کی بارش میں بھیگتی لڑکی ، ۴۴)