رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
ہم سے کہتے ہیں چمن والے ، غریبان چمن!
تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
ویرانے اور بستیاں ، شہر شہر ، قریہ قریہ ، کوچے کوچے اور گلی گلی کونے کونے اور چپے چپے گھر گھر پیسے ہی پیسے کی کار فرمائی
(۱۹۹۲ ، نئی سمت ، ۲۹)
۔ آخر میں اس کے چہرے پر اطمینان اس طرح پھیل گیا جیسے کسی اجاڑ اور سنسان ویرانے میں چاندنی پھیل جائے ۔
(۲۰۰۱ ، سرخاب کے پر (ترجمہ) ، ۲۳) ۔