مرد نوکر رکھ لے مرضعہ کو کہ دودھ پلاوے ولد کو نزدیک اوسکی ماں کے ۔
(۱۸۶۷ ، نورالہدایہ ، ۲ : ۹۳) ۔
یہ دونوں چیزیں آپکی مرضعہ (انا) کے ہاتھ کی گاڑی ہوئی ہیں ۔
(۱۹۰۰ ، ذات شریف ، ۱۰۵) ۔
حضرت ابن عباسؓ غالباً یہی معنی قرار دے کر ، حاملہ اور مرضعہ (دودھ پلانے والی) اور بڈھے کو فرضیت سے مستثنیٰ سمجھتے تھے ۔
(۱۹۳۵ ، سیرۃالنبیؐ ، ۵ : ۳۰۰) ۔