آرام کے ہم اپنے اتنے نہیں ہیں غرضی
آزاد ہی بھلا ہے جو ہے تمہاری مرضی
خوش رہیں غیر ہم رہیں ناخوش
ہے یہ مرضی ہمارے دلبر کی
کہنے لگے حسین سے پھر شاہ بحر و بر
بتلا مجھے کہ کیا تری مرضی ہے اے پسر
کبھی خدا اپنی مرضی سے روز آخرت پر موقوف رکھتا ہے ۔
(۱۹۰۶ ، الحقوق والفرائض ، ۱ : ۲۰) ۔
اختر حسین ، خیر تمہاری مرضی ، سامان درست کراؤ ، رات کی گاڑی سے چلیں گے ۔
(۱۹۳۹ ، شمع ، ۱۴) ۔
بخشے تو کرم ہے ، ورنہ اسکی مرضی
جبار پہ جبر کون کر سکتا ہے
تاجر نے لڑکی کی مرضی دریافت کرکے ان دونوں کو رشتہء ازواج میں منسلک کردیا۔
(۱۹۹۴ ، صحیفہء ، لاہور ، اپریل ، جون ، ۵۴) ۔