تم جانتی ہو کہ میں ہمیشہ کی مرضین ، آئے دن کی بیمار ہوں ۔
(۱۸۷۴ ، انشائے ہادی النسا ، ۷۷)۔
بی بی کو مدت سے دھڑکن کا روگ تھا ۔۔۔۔۔ غرض بیچاری اکثر مرضین رہتی تھی ۔
(۱۹۰۷ ، اُمہات الامہ ، ۲۳) ۔
جتنا آپ اپنے کو روگی سمجھتے ہیں ، اس سے کہیں زیادہ میں آپ کو مرضین سمجھتی ہوں ، چلو چھٹی ہوئی ۔
(۱۹۲۴ ، مضامین عظمت ، ۲ : ۲۴۳)