مسعود جلدی سے سنبھل کر بیٹھ جاتا ہے اونو ، نو ، یہ گستاخی اور میری شان میں ۔
(۱۹۱۲ ، الناطر نمبر ۵۱ ، ۹ : ۳۶) ۔
ہمارے بوس میں صاحب بڑا بھاری ڈیفکٹ اک ہے
کہ جس میٹر میں یس کہنا اُسی میں لب پہ نو لانا
(۱۹۵۶ ، کلیات رزمی ، ۴۷۱) ۔
’’ نو ‘‘ وہ ہنسے اور ایک نرم و گرم خاتون کو زور سے آواز دی جو انگریزی جانتی تھیں ۔
(۱۹۷۵ ، تماشا مرے آگے ، ۱۰۰) ۔