پانسو دریا چھوٹے اور دوسو بڑے ہیں مثل جیحوں و دجلہ اور فرات و نیل وغیرہ ۔
(۱۸۱۰ ، اخوان الصفا ، ۱۶۹) ۔
غل تھا قمر نہیں فلک بے عدیل میں
یوسف نہا رہے ہیں کھڑے رودِ نیل میں
نمردود و فرعون ، ابوجہل و ابولہب کے لئے جو آتش خلیل ، طوفان نیل قحطِ مکہ اور انشقاق قمر کے معجزوں کے طالب تھے ۔
(۱۹۲۳ ، سیرۃ النبیــــ ، ۳ : ۴) ۔
رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک
ترا سفینہ کہ ہے بحر بیکراں کے لیے
جب افشائے راز کا خوف ہوا تو صندوق میں بند کرکے اللہ کے نام پر نیل میں چھوڑ دیا ۔
(۱۹۷۱ ، معارف القرآن ، ۶ : ۶۰۴) ۔