مولانا جمیع علوم عقلیہ ونقلیہ کے جامع تھے .
(۱۸۹۷، تاریخِ ہندوستان ، ۱۱:۴).
اس نصاب میں علوم عقلیہ اور فنون نقلیہ کا جو امتزاج تھا وہ ایک خاص اندازِ نظر رکھنے والے ملائوں کو پسند نہ تھا .
(۱۹۷۵، لکھنئو کی تہذیبی میراث، ۲۲۶).
ملا کسی دور میں بہت بڑا فاضل شخص گردانا جاتا تھا جو علومِ عقلیہ و نقلیہ پر پوری مہارت رکھتا تھا.
(۱۹۹۱، تعلیم و تعلم میں انقلاب کیوں اور کیسے ، ۵۲).