مثلاً پانی میں جوں باؤ ولے پانی میں پانی دستا و لیکن باؤ نہیں دستا و لیکن باؤ اس پانی سوں ہے ۔
(۱۵۸۲ ، کلمۃالحقائق ، ۵۱) ۔
بحر اخضر میں جو دیدے کوئی غوطہ مثلاً
ہو زمرد سے کہیں اخگر آتش افضل
فلاں ستارہ اب سے مثلاً سو دو سو ہزار برس بعد کس مقام پر ہوگا ، نجومی سورج گہن اور چاند گہن کو برسوں پہلے معلوم کرلیتے ہیںکیا مجال کہ ایک لمحہ کا پس و پیش ہو جائے ۔
(۱۹۰۶ ، الحقوق والقرائض ، ۱ : ۲) ۔
مقبول عام ناولوں میں ایک مضحکہ خیز قسم کی ذات ہی دریافت ہو سکتی ہے مثلاً ’’ بہار دور نہیں ‘‘ کا بنیادی نتیجہ اس قدر ڈھیلا ڈھالا ہے ۔
(۱۹۸۶ ، فکشن فن اور فلسفہ ، ۷۹) ۔