امام نہیں متولی ہوتا ہے اُس کی نماز جنازہ اور دفن کا بجز امام ۔۔۔۔۔ بدون امام کے نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا ہے اور نہ دفن کرسکتا ہے۔
(۱۸۸۷ ، نہرالمصائب ، ۲۶۹)۔
یاایہاالناس! میں انصار کے مقابلے میں تم کو وصیت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ وہ میرے (جسم میں بمنزلہ) معدے کے ہیں جو تمہارے نفع و نقصان کا متولی ہو ۔
(۱۹۱۴ ، سیرۃالنبیؐ ، ۲ : ۱۷۶) ۔
دوزخ اچھا ، مگر اے زاہد ناکارہ سرشت
تو ہے جس کا متولی ، نہیں اچھی وہ بہشت
عبادت خانے کے متولی نے کپڑے کی سفید پوٹلی کو دیکھا ۔
(۱۹۸۹ ، سیاہ آنکھ میں تصویر ، ۲۱۹) ۔
ان کا انتخاب ۔۔۔۔۔ انجمن کے متولیان نے بالاتفاق رائے کیا ۔
(۱۹۹۶ ، قومی زبان ، کراچی ، جنوری ، ۹۰) ۔
اُس درگاہ کے متولی اور اُس کے بھائیوں کے روبرو ملکہ نے پیکوہ سے درخواست کی کہ تو ، اپنی سرگزشت بیان کر ۔
(۱۸۳۹ ، تواریخ راسلس شہزادہ حبش کی ، ۱۸۹) ۔
حسب ِ سفارش نورجہاں بیگم کے سید مقبول علی صاحب متولی ۔۔۔۔۔ مسجد مقرر ہوئے ۔
(۱۸۶۴ ، تحقیقات چشتی ، ۹۹۹) ۔
وقف نامے کی وجہ سے وہ متولی یامہتمم تصور کیا جاتا ہے ۔
(۱۹۰۴ ، مقالات شبلی ، ۱ : ۱۰۱) ۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد نواب محسن الدولہ وقف حسین آباد کے متولی مقرر ہوئے ۔
(۱۹۸۸ ، لکھنویاتِ ادیب ، ۲) ۔
قیس بن سعد بن عبادہ متولی مصر تھا ۔
(۱۸۵۱ ، عجائب القصص (ترجمہ) ، ۲ : ۶۰۴) ۔