ان کی اردو تحریر میں سادگی اور لطف بیان کے ساتھ ساتھ ہندوستانیت اور انگریزی اثر دونوں موجود ہیں ۔
(۱۸۶۱ ، خطبات گارساں دتاسی ، ۲۷۴) ۔
مادر وطن کے تمام فرزند ہندو ہوں یا مسلمان ۔۔۔۔۔ ان کی ہندوستانیت دنیا میں ممتاز و نمایاں ہو کر چمکے ۔
(۱۹۱۷ ، العصر ، پٹنہ ، ۲ : ۱۹۴) ۔
نئے تجربات لکھے جائیں ، نئی افادی حیثیت پیدا ہو جائے ، کوئی مضائقہ نہیں لیکن ہندوستانیت فنا نہ ہونی چاہیے ۔
(۱۹۴۹ ، اردو تنقید کا ارتقا ، ۲۸۴) ۔
فارسی الفاظ کی بہتات کی وجہ سے کلام میں ہندوستانیت کم ہو گئی ہے ۔
(۱۹۸۴ ، اردو مثنوی رامائن ، ۹۷) ۔
کانگریس ہندوستانیت کا ملبوس زیب تن کر لینے کے باوجود اپنی اس ہندوانہ ذہنیت کو نہیں چھپا سکی تھی مسلمان جس سے خوفزدہ تھے ۔
(۱۹۹۰ ، پاکستان کی خارجہ پالیسی ، ۴۲) ۔