آنکھیں تو ہور دستیاں دل میں تو بھید کچھ ہے
باتاں تو ہور کچھ ہیں مقصد بھی ہو رہے گا
اُس کے حق میں ہے قل کفیٰ باللہ
مقصد انما یریداللہ
ہر ایک نامراد کا مقصد دلی اپنے کرم اور فضل سے بدلا
۔ (۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۲۴۸)
سوا حیرت کے کیا ہے فکرت کنہ حقیقت میں
یہ وہ گھر ہے کہ جس میں بند دروازہ ہے مقصد کا
میرا مقصد اس سے یہ نہ تھاکہ میں زلیخا کو گناہ گار ثابت کروں ۔
(۱۹۳۴ ، قرآنی قصے ، ۷۰) ۔
جو لوگ زندگی کو مقصد کی صورت بسر کرتے ہیں وہ خواہشوں کے حصار میں گرفتار نہیں ہوتے ۔
(۱۹۹۴ ، ڈاکٹر فرمان فتح پوری ، حیات و خدمات ، ۲ : ۷۰۲)