لوگ بولے نئیں ہے ہم کو اقتدار
کہ قدم اس پر رکھیں ہم استوار
باوجود اقتدار کے عفو و درگذر سے کام لے.
( ۱۹۰۶ ، الحقوق و الفرائض ، ۱ : ۳۵ )
اے شہ عالی تبار ہو ویں نہ حیران کیوں
آج قضا ہور قدر دیکھ ترا اقتدار
مگر صاحبان انگریز با وصف حکومت اور اقتدار کے خیال اس کا نہیں کرتے ہیں.
( ۱۸۴۷ ، عجائبات فرنگ ، ۲۱ )
سچ اور جھوٹ کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب بڑا آدمی اپنے اقتدار یا منصب سے محروم ہوجاتا ہے.
( ۱۹۵۳ ، چند ہم عصر ، ۱۲۰ )