وہ کون قطامہ فاحشہ ہوگی جو تمھیں کہے گی کہ بہت خوب بات ہے بی بی جاؤ اور یار کا جی بہلاؤ
(۱۸۴۵ ، حکایت سخن سنج ، ۴۰)
۰۵ کسی بے تکلف دوست سے نیز خود سے خطاب کا کلمہ
یار میری بیکسی کی خود پسندی دیکھنا
کہ ہیر ہے جو کوئی میرے سو ہو ، میں نہ ہو
(۱۸۷۳ ، کلیات منیر ، ۳ : ۳۳۰)
تو تو کچھ اور ہو گیا مجروح
دل تو اٹکا نہیں کہیں اے یار
(۱۸۹۸ ، دیوان مجروح ، ۷۹)
یار ہمیں بمبئی کے کسی اور علاقے کا نام ہی یار نہ رہ ا
(۱۹۹۰ ، دلی دور ہے ، ۱۸۸)
۶ چوروں اور ڈاکوؤں کے گروہ میں سے کوئی ایک
(جامع اللغات ، علمی اردو لغت)
۰۷ اللہ تعالیٰ کی طرف اشارہ ہے ، مالک و آقا ، رب ، خدا ، اللہ ؛ بھگوان ، رام
دوری شہیدی اپنی سمجھ کا قصور تھا
ہے شہرگ گلو سے بھی یاں یار عنقریب
(۱۸۴۰ ، شہیدی ، ۳۹)
سلام اس پہ رہ حق میں جو نثار ہوا
جدا بدن سے ہوا سر تو وصل یار ہوا
(۱۸۷۵ ، دبیر ، دفتر ماتم ، ۱۶ : ۱۵)
بے فکر دلی یار پہ شیدا ہو جا
بندے کو اسی حال میں رہنا موزوں
(۱۹۰۲ ، رباعیات عجائبات امو جان دلی دہلوی ، ۶۷)
۰۸ (تصوف) تجلی صفات کو کہتے ہیں اور بعض ذات مع الصفات اور بعض انا کہتے ہیں
(مصباح التعرف ، ۲۷۸)
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .