اچھے عقل سوں بخت کوں یاوری
اچھے عقل سرمایۂ داوری
دل میں تھے کاڑ سٹ توں حسن ہور نفاق کوں
جو تج کرے رفیق ہو توفیق یاوری
اب خواب میں ہم اُس کی صورت کو ہیں ترستے
اے آرزو ہوا کیا بختوں کی یاوری کو
الحمدللہ کہ طالع کی مدد اور قسمت کی یاوری آج اس مقام پر باہم ملاقات ہوئی
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۸) ۔
کیا انسیاں ، کیا طائراں ، کیا وحش ، کیا جن و پری
پالے ہے سب کو ہر زماں تیرا کرم اور یاوری
سحر ہو ط رہِ ظلماتِ ہجر رشکِ قمر
جو خضرِ راہِ مقدر کی یاوری ہو جاے
رقیب آتا ہے مجھ سے ہمسری کو
جنوں سے کہہ دو آئے یا وری کو
اس بات سے ہم پتہ لگا سکتے ہیں کہ بیرونی کا یہ فلسفہ تھا کہ جو اس کی مدد سے اشیاء کو معلوم کرنا اور عقل و فکر کی یاوری سے کام لینا ہی علم الیقین ہے
( ۱۹۹۰ ، البیرونی ، ۳ : ۲۱۷ )