یانگ کا مطلب تھا ’’ہاں‘‘ اور ین کا مطلب تھا ’’ نہیں‘‘ ۔
(۱۹۹۶ ، ژونگ ، ۲۸۹) ۔
چینی فلسفے میں ین اور یانگ کے الفاظ ملتے ہیں ، ین اُس کیفیت کا نام ہے جس میں ہر شے جامد اور ساکن ہوجاتی ہے ۔
(۱۹۷۶ ، تصورات عشق و خرد اقبال کی نظر میں ، ۳) ۔
انھوں نے ہندوؤں سے پرش اور پراکرتی کی اصطلاحیں اٹھائی ہیں اور چینیوں سے ین اور یانگ کی ۔
(۱۹۸۳ ، سلیم احمد ، نئی شاعری نامقبول شاعری ، ۲۲۱) ۔
یانگ زندگی کی اس کیفیت کا نام ہے جس کا خاصہ تحرک اور اضطراب ہے ین سکون و سکوت و جمود کا نام ہے ۔
(۱۹۸۹ ، شام کا سورج ، ۶۲۰) ۔