چندر مکھ سی صورت نہ تھی دوسری
منگیتر پری زاد کی تھی پری
اس کا منگیتر مر جائے تو اس کو رنڈسالہ پہنا کرسسرال میں بھیج دیتے ہیں ۔
(۱۸۰۵ ، آرائش محفل ، افسوس ، ۵۹) ـ۔
چلو قلعہ میں چل کر اپنی منگیتر کی نگہبانی کرو۔
(۱۸۸۲ ، طلسم ہوش ربا ، ۱ : ۶۷۲) ۔
کئی ہزار روپے کے توڑے ان کے ہاتھ بھیج دیے کہ گاما کے منگیتر اور ماں باپ کو دے کر راضی کیا جائے۔
(۱۹۱۷ ، جگ بیتی کہانیاں ، ۸) ۔
دو دن بعد یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ وہ تو اپنے منگیتر کے بارے میں ان سے مشورہ کیا کرتی تھیں ۔
(۱۹۹۸ ، ارمغان عالی ، ۳۷۹) ۔