پر بتیا نے اپنے نیفے سے دو ڈبل پیسے نکال کے دئے کہ میرے واسطے چوک اچھا لیتے آنا.
(۱۹۰۰، خورشید بہو، ۱۲۰ ).
گندھک آدہ پائو، چوک چھٹانک بھر، سانبھر نمک چھٹانک بھر، تل کا تیل سیر بھر، تینوں دوائوں کو خوب باریک پیس کر روغن میں مخلوط کرکے خارش والے اونٹ کے بدن پر ملتے ہیں.
(۱۸۴۵، مجمع الفنون (ترجمہ)، ۲۴۶ ).
چوک . . . پہاڑی انار ترش کا جس کو ڈارمی کہتے ہیں رب ہے، سیاہ رنگ ہوتا ہے اور بہت کھٹا ہوتا ہے . . . جب گاڑھا ہوجاتا ہے تو چوک کہلاتا ہے.
(۱۹۲۶، خزائن الادویہ، ۳: ۳۹۳).