دوڑے بدن میں وہ خارش کا زور
وہ کھٹمل کی اُلفت کہ جیسے چکور
دل دریا میں غم کی موجاں آوتی ہیں فوج فوج
عشق کے تختے اُوپر کیا ڈر ہے طوفاں زور تھے
سورۂ نحلہ میں بڑے زور سے عرب کے طرزِ معاشرت پر غِصّہ کِیا ہے .
(۱۸۸۸ ، حسن ، دسمبر ، ۵۲) .
نواب مدارالمہام اس سے زیادہ کے مجاز نہیں ہیں اس لئے حضور میں بڑے زور کے ساتھ تحریری سفارش بھیجی ہے .
(۱۹۰۱ ، مکاتیب ِ شبلی ، ۱ : ۳۹)
اس نے لخمی بادشاہ عمرو بن ہند کو بڑے زور سے نصیحت کی کہ اپنے باپ المنزرالثالث کا قصاص لے .
(۱۹۶۷ ، اُردو دائرہ معارفِ اسلامیہ ، ۳ : ۵۴۹)
تَغیرِ قافیہ سے یہ طرحی غزل کہوں
تا جس میں زور کُچھ تو طبیعت کا چل سکے
اِدھر قریب کے دیہات میں ایک ماہ سے طاعون کا زور ہو رہا ہے .
(۱۹۲۲ ، گوشۂ عافیت ، ۱ : ۲۷۱)
جمعیۃ العلماء کا زور تھا .
(۱۹۴۵ ، حکیم الامت ، ۷)
ناتوانی نے زور کام کِیا
چڑھ گئے یار کی نِگاہوں پر
کُھب گئی دِل میں ہمارے چھپ تری اے جامہ زیب
زور ہی دستی ہے تجھ کو نیک چولی واہ وا
ہوئے غیب دیک او دونو جان ویں
لگی فکر ور زور اوس شاہ تئیں
پیچھے آئی انوپ کی بھی برات
زور وہ دن تھا زور تھی وہ رات
رنگ دلائی ہے زور فصل بہار
گل تو کیا عکسِ گل سے سرخ ہیں خار