کِیا ہے خُون نے کے غلبہ تن منیں میرے
نِگہ کے نیشتر کوں لا کہو فصاد سوں جا کر
مر گئے پر بھی وہ سودے کی حرارت نہ گئی
قبر سے خاک مری آگ بگولہ نِکلے
غذا سے خُون ، بلغم اور صفرا کی چار خلطیں پیدا ہوتی ہیں۔
(۱۹۰۶ ، الحقوق و الفرائض ۱ : ۱۰۶)۔
اگر مالیخولیا کاسبب وہ فضلات ہوں جو کہ سودا طرف مائل ہوں ۔۔۔ اسکو مُقَوّی دماغ ادویہ کھلائیں۔
(۱۹۴۷ ، جراحیات زہراوی (ترجمعہ) ، ۱۱)۔
چلنا ہے جیو جس پر ، جاتے ہیں اوس کے پِیچھے
سودا (کذا) میں عشق کے ہے اب یہ چلن ہمارا
میرے جنون اور سودا کی یہ حقیقت ہے جو میں نے تُجھے سنائی۔
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۱۲)۔
یاد آئیں بیڑیاں اور وہ گرانی طوق کی
کم ہو سودا مرا من٘ہ دیکھ کر حدّاد کا
محبّت اور مجنوں ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں
فِدا لیلیٰ پہ تھا آن٘کھوں کا اندھا اس کو کہتے ہیں
نتیجۃً سودا کی بہت سی قسمیں پہلے کی نِسبت اب زیادہ تر نفسیات کے ذریعے دُور کی جاتی ہے۔
(۱۹۶۳ ، تجزیۂ نفس (ترجمعہ) ، ۳۳)۔
اتھا فکر میں میں بہ سودائے زر
اُٹھا گھابرا در تمنائے زر
سودائے زُلفِ خُوباں رکھتا ہوں دل میں دائم
زنجیرِ عاشقی کا دِیوانہ ہو رہا ہوں
شاید اِس حُور کی زُلفوں کا نظارا ہو نصیب
سر میں اس واسطے ہم رکھتے ہیں سودائے بہشت
سما سکتا نہیں پہنائے فِطرت میں مرا سودا
غلط تھا اے جنوں شائد ترا اندازۂ صحرا
سر ہو تو میں زُلف کا سودا ہی چاہیے
دل ہو تو دل میں درِد محبّت ضرور ہو
اُس نے آدم زاد سے دل لگایا ہے اور اس ہی کا سودا اس کے سر میں سمایا ہے۔
(۱۸۰۳ ، گُل بکاؤلی ، ۵۸)۔
سر میں سودا ہے مرے اس کی قدم بوسی کا
خاکِ پا جس کی ملائک کو ہے کحلِ بصری
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنّا بھی نہیں
لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسا بھی نہیں
وہ درویش جو سودا تیرا
تُجھ بن اور کسی کا نہیں چیرا
سودا کو ترے ترانہ اک کافی ہے
مستوں کو ترے بہانہ اک کافی ہے