وہ آج شرطیہ جائیں گے .
(۱۹۲۹، نور اللغات، ۳ : ۳۶۹ ).
مہنگی مَمی کے ساتھ سرٹیفیکٹ ملتا ہوگا کہ شرطیہ دو ہزار سال تک چلے گی ورنہ دام واپس .
(۱۹۸۰، دجلہ ، ۳۷ ).
۲ـ (منطق) وہ قضیہ جس میں موضوع شرط ہو اور محمول اس کی جزا (یہ موضوع اور محمول علی الترتیب مقدم و تالی کہلاتا ہے ، جیسے : اگر آفتاب نکل آیا تو دن ہے) .
(۱۹۸۰، دجلہ ، ۳۷ ).
قضیے کو حملیہ کہتے ہیں ورنہ شرطیہ .
(۱۸۷۱، مبادی الحکمۃ، ۴۵ ).
شرطیہ کی صحت نہ تو مقدم کے صدق کے ساتھ یہاں وابستہ ہے اور نہ تالی کے صدق کے ساتھ .
(۱۹۴۰، اسفار اربعہ (ترجمہ)، ۱ ، ۲: ۸۱۹ ).
شرطیہ قصیدے میں اختتام کے ایسے اشعار جن میں مشروط دعا ہو .
(۱۹۸۳، اصناف سخن اور شعری ہیبتیں ، ۱۹۷ ).
فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں فعل ختم ہوچکا تھا ، باقی شرطیہ صورت وہی ہے لیکن ایسے واقعے کا اظہار ہے جس کا ہونا گذشتہ زمانے میں ممکن تھا لیکن وقوع میں نہ آیا .
(۱۹۱۴، اردو قواعد ، عبدالحق ، ۲۶۷ ).