عجب لوگ او کوئی ہیں بدھ کے کم
جو انسان دیتے ہیں لے کر درم
ایسا کہا ہے کہ بدھ بنا بدیا کسی کام کی نہیں .
( ۱۸۰۴، بیتال پچیسی ، ۵۸ )
اس کا بھی خیال رکھو کہ بدھ اور جوگ میں یہ لڑکا جنگل کے بڑے بڑے رشیوں سے بڑھ کر نکلا ہے .
( ۱۹۰۱، زلفی ، ۵۱ )
کدی نیہہ لیلیٰ کی لئی دل میں بیس
پھر یا ہو کے مجنوں گنوا بدھ کوں قیس
نہ تن من کی اسے سدھ رہی نہ جی جان کی اسے بدھ
( ۱۸۰۲، نشر بے نظیر ، ۳۳ )