سسرال جا کر یہ بہانہ کیجئے کہ تمہارے نواسا پیدا ہوا ہے اس کی بدھائی دینے کو میں آیا ہوں .
( ۱۸۰۴، بیتال پچیسی ، ۴۷ )
بھائی جی کو بدھائی دو کہ ان کے مسلمان متبھین پیدا ہوگئے .
( ۱۹۳۹، آب رفتہ ، ۴۲ )
قادر اوپر سہیلے گاتا ہے جیوں معظم
اس شوق سوں بدھائیاں گانا ہے سچہ مشکل
کلمہ وہ خیر کا وہ بدھائی کہیں بھی ہے
بھاٹوں کے لب پہ نغمہ سرائی کہیں بھی ہے
بدھائی آج مرے گر ہے مطربوں سے کہو
شہانہ گائیں خوشی سے لگائیں طبلے پہ تھاپ
بدھائیاں بج رہی ہیں ہر سو مگن ہیں مرلی بجانے والے
فلک سے اترے ہیں اچھوا کو اجو دھیا کے بسانے والے
سب منگلا مکھی حاضر ہوئیں اور گھر گھر سے بدھائی آنے لگی .
( ۱۸۰۴، بیتال پچیسی ، ۵۳ )
پنجاب میں رسم ہے کہ جس شخص کے یہاں بیاہ ہوتا ہے یا فرزند تولد ہوتا ہے تو مخنث اور نقال بدھائی لینے آتے ہیں :
( ۱۸۶۴، تحقیقات چشتی ، ۱۸۵ )