۱. ضمانت ، رہن ؛ وہ شخص یا چیز جو ضمانت یا رہن کے طور پر کسی کے پاس رکھ دی جائے ؛ یرغمال.
جو عامل اب ہیں محالات پر سو یوں ہیں ضعیف
کہ جس طرح کسی حاکم کے گھر گنوار کی اول
( ۱۷۸۰ ، سودا ، ک ، ۱ : ۳۶۷ )
ہمارے بچے تمھارے یہاں اول رکھے جاویں.
( ۱۸۴۵ ، جوہر اخلاق ، ۵۸ )
آنے کا وعدہ کرتے ہو کیا اس کا اعتبار
بلوا دو اپنی اول میں میرے رقیب کو
( ۱۹۰۵ ، یادگار داغ ، ۱۶۴ )
۲. آڑ ، طفیل ، وسیلہ
( فرہنگ آصفیہ ، ۱ : ۳۱۲ )
اف : دینا ، رکھنا ، رہنا ، لینا.
-
[ ہ : اول # ( = ضمانت ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .