شور جس کا ہے وہ ہے عشق جنوں زا دل میں
بدھ گیا ہے نمکیں حسن کا سودا دل میں
بھدنا لفظ نہیں ہے ، بدھنا ہے اور سرایت کرنے کے معنی میں مستعمل ہے .
( ۱۹۰۰، امیر ، مکاتیب ، ۱۴۳ )
ترے کا کل کے پیچوں میں دل اپنا بدھ سکے کیونکر
وبال جاں ہے طے کرنا شب تارک کا رستہ
بے دل انگاری نہ ہووے اوج ہر گز خلق میں
بے بدھے پہنچے نہ ہر گز در یکتا کان میں
کبوتر کے انڈے کے برابر بڑا بڑا موتی . . .گد گدا انگنائی میں گر رہا ہے اور وہ بھی بدھا ہوا آبدار .
( ۱۹۱۵، سجاد حسین ، کایا پلٹ ، ۱۴ )