اول مقام نا سوت.
( ۱۴۲۱ ، خواجہ بندہ نواز ، شکارنامہ ، ( شہباز ، فروری ، ۶۲ )
ڈرتا ہوں کہ کہیں صفحۂ اول کتاب پر بھی نہ لکھ دیں.
( ۱۸۵۸ ، خطوط غالب ، ۱۵۹ )
یہ اول جنگ تھی جس میں انگلینڈ اور فرانس کو فتح حاصل ہوئی.
( ۱۹۰۴ ، محاربات عظیم ، ۱۶ )
اول عرفان بعدہ ایمان و بعد اسلام.
( ۱۵۸۲ ، کلمۃ الحقائق ، جانم ، ۸۵ )
شعلہ حسن سے تھا درد دل اپنا اول
آگ دنیا میں نہ آئی تھی کہ سوزاں ہم تھے
مختصر سہی مگر اس فن میں وہی کتاب اول ہے.
( ۱۹۲۴ ، نور اللغات ، ۱ : ۴۴۵ )
تمارے مکھ فریبی کوں پر کھ کر یوں کہے شاہی
سندر ناریاں میں تج تھے میں کسے اول نہیں دیکا
وہ مضمون ڈھونڈ کر باندھوں کہ جو اشکل سے اشکل ہو
کہوں وہ مطلع ثانی کہ جو اول سے اول ہو
آنسو کے در کو پنجۂ مژگان پہ لے کے میں
اتنا پھرا کہ قیمت اول بھی گھٹ گئی
بہت کر چکے گھر میں آرام اٹھو
اسی جوش اول سے لو کام اٹھو