کہیں سو میٹھا ہو جھڑ لاوے
کہیں پپوٹے اولے کھاوے
کرے کیا فائدہ نا چیز کو تقلید اچھوں کی
کہ جم جانے کچھ اولا تو گوہر ہو نہیں سکتا
جو اوپر سے اولوں کی بوچھار ہے
د افشاں سحاب گہر بار ہے
اف : برسنا ، پڑنا ، گرنا.
-
سفید کھانڈ . . . کو پکا کر صاف کرتے اور . . . اولا بناتے ہیں.
( ۱۸۹۴ ، اردو کی تیسری کتاب ، اسماعیل ، ۹۶ )
اب کے لڈووں کے اولوں اور نکتیوں کی بارش عام ہوگی.
( ۱۹۲۵ ، ’اودھ پنج‘ ، ۱ ، ۳۲ : ۳ )
۳. پسے ہوئے کوئلے اور چاول کی پیچ کا لڈو یا پیڑے کی سی ٹکیاں (جسے کوئلے کی جگہ چلم میں رکھ کر آگ دکھاتے ہیں)
( جامع اللغات ، ۱ : ۳۲۵ )