جیوں چتر داغ عشق کوں رکھ سر پر اپنے اولاً
تب فوج اہل درد کا سردار ہو سردار ہو
اولاً کی بطن مادر میں تلاوت ساتھ ساتھ
اے زہے معجز نمائی و فصاحت گستری
میری قوم اولاً کسی جانور کو تصدیع نہیں دیتی ساتھ اس کے سہل چیزوں پر قناعت کرتی ہے.
( ۱۸۰۲ ، خرد افروز ، ۱۴۹ )
یہ ہی انداز نکوکاری و بدکاری ہے
اولاً خاص تھی اب عام میں وہ جاری ہے
یہ عمارت اولاً ۱۸۵۰ کی نمائش کے لیے تیار ہوئی تھی.
( ۱۹۴۹ ، شیرانی ، مقالات ، ۵ )
ہم نے اس کمی کی تلافی اس طرح پسر کردی ہے کہ اولاً ان کے کل لکچر شروع سے تا تاریخ امروزہ جمع کر دیے ہیں.
( ۱۸۹۲ ، دیباچہ ، لیکچروں کا مجموعہ ، نذیر ، ۱ : ۷ )
اولاً بدل شکر گزار ہوں کہ آپ مجھ سے ملنے تشریف لائے.
( ۱۹۱۸ ، رقعات اکبر ، ۳۳ )