یہ میر صاحب تو مجھے کچھ اول جلول سے آدمی معلوم ہوتے ہیں.
( ۱۸۹۷ ، شاہد رعنا ، ۸۲ )
قاصد مری بات کچھ نہ سمجھا
کیا اول جلول آدمی ہے
اگر کسی اول جلول آدمی نے سنسنی خیز کہہ دیا تو دوسروں نے فوراً اُسے اختیار کر لیا.
( ۱۹۲۴ ، ’اودھ پنج‘ ، لکھنؤ ، ۹ ، ۲۶ : ۹ )
ڈھانچ ہے بس کہ اس کا اول جلول
کہیں مل بیٹھتی نہیں ہے چول
کتابیں تو کھلی ہیں مگر نظر آسمان پر ہے منھ سے اول جلول بک رہے ہیں.
(۱۸۸۰ ، فسانۂ آزاد ، ۱ : ۳۰ )
بیگم : آج تو بڑی اول جلول باتیں کر رہے ہو.
( ۱۹۴۷ ، خان صاحب ، ۶۰ )
اب قوم کی جو رسم ہے سو اول جلول
فاسد ہوئے قاعدے تو بگڑے معمول
راجا چندو لعل کی اول جلول فیاضی بر سر طغیانی تھی.
( ۱۸۹۷ ، کاشف الحقائق ، ۲ : ۲۷۰ )