تمام ہندوستان سے اخبار نویس . . . شکایت کی بنوبت حد کمال تک پہنچا چکے.
(۱۸۷۳ ، اخمار مفید عام ، ۵ جنوری ، ۲۱ ).
کوئی اخبار نویس بھی اتفاق سے ان کا دوستر ہوا . . . تو انھوں نے اپنے دل کے غصے کو جھوٹ باتیں چھپوا کر ٹھنڈا کر دیا.
(۱۸۷۶ ، تہذیب الاخلاق ، ۲ : ۵۱۴ ).
ترکی اخبار کا جو وفد دلی آیا تھا وہی بار بار بڑے فخرے اپنے آب کو یورپین فیشن کہتا تھا.
(۱۹۳۵ ، چند ہم عصر ، ۲۳۳ ).
یمن میں اخبار نویسون نے یہ حال لکھا.
(۱۸۲۴ ، فسانۂ عجائب ، ۱۳۹ ).
فرمان اعتراض آمیز اور احکام تہدیہ آمیز تمام اخبار نویسی کی خدمت سپرد کی.
(۱۹۱۴ ، محل خانہ شاہی ، ۵۵ ).