اچھے تو دیکھتے ملاں خیالی
یو میں برتیا ہوں سو صاحب کمالی
اس شیوہ وروش کو خوب برت گئے .
( ۱۸۶۹ ، غالب ، خطوط ، ۴۹ ).
برجموپن بھی احتیاط برتنے لگا .
( ۱۹۵۲ ، شاید کہ بہار آئی ، ۳۰ ).
تم نے دیکھا ہے تم نے برتا ہے
وہ تو مہر و وفا کا پتلا ہے
تم بھی ماشااللہ آج کی نئی دلھن تو نہیں چھتیس برس کی بیاہی اس سسرال کو برت رہی ہو .
( ۱۹۱۰ ، لڑکیوں کی انشا ، ۵۰ ).
اس نے ہر قسم کے حاکم کو برتا ہے.
( ۱۸۹۳ ، فرہنگ آصفیہ ، ۱ : ۳۸۳ ).
آج تم باپ کے کہنے پر اتنا بگڑ گئیں کل تم کو پرائی ماں برتنی ہے .
( ۱۹۳۶ ، راشد الخیری ، حیات صالحہ ، ۱۷ ).