وہ چاند سے رُخ گرِدِ پتیمی سے اَٹے تھے
اور ماتمی کپڑوں کے گربیان پھٹے تھے
سورج جلتا ہے سارے ماتمیاں کے آہ تھےسب دن
چندا اس شرم تھے گل کر سو اپنا سرنوایا ہے
نشیں بو شفق کی لالی ہو ماتمی فلک نے
مکھ بھر رکت لگایا جا کربلا کے رن میں
کیوں نہ ہو داغ بدل خاک چمن سے پیدا
لالہ ہے ماتمی خونِ شہیداں اب تک
ماتمی ہوں میں دل مرحوم کا
آؤ سُن لو مرثیہ خوانی مری