جھلک دیک بجلیاں کی تروار کی
پراناں اڑی دھرتی سنسار کی
دم بھر میں سر عرش گئے اور پھر آئے
بجلی اور کہاں گرمی رفشار محمد
اس پر تم کو بجلی نے آدبوچا
(۱۹۰۲، الحقوق و الفرائض ، ۱ : ۳۰)
بجلی کے وہ آفتاب نما چراغ جو شب تاریک کر اپنی ضیا سے مثل روز روشن کر دکھائیں . . . کس کو نصیب
(۱۸۹۰، رسالہ ' حسن' ۳ ، ۸ : ۷۲)
بجلی کی قوسی بھٹی میں سو فیصد سکریپ فولاد استعمال ہوتا ہے.
(۱۹۷۳ ، فولاد سازی ، ۱۱)
پاوں میں طلائی چھڑے کان کی لو میں ہیرے کی بجلی
(۱۸۲۴، فسانۂ عجائب ، ۹۵)
نالوں سے پھٹے جاتے ہیں کیوں کانوں کے پردے
بھاری نہ تو پتے ہیں نہ بجلی ہے نہ بالے