پیادہ ہوا تابہ درگاہ شاہ
اولشکر کے غل تے نہ پاتا تھا راہ
ملازموں کو جو پیادہ تھے ، سوار کرایا .
(۱۸۷۶، تہذیب الاخلاق ، ۲: ۵۳۸)
ہے اگر فائق پیادے سے سوار
مست پر غالب اگر ہشیار ہے
اتایھاں پیادا ہو بیٹھیا ہے کئی
ہمیں تو سمجھتے نہیں کیا ہے کئی
صبح کو ایک پیادہ قاضی کا آیا اور مجھ کو دارالشرع میں لے گیا .
(۱۸۰۲، باغ و بہار، ۱۳۶)
میں عورت ذات بے والی وارث ، جب سرکاری پیادے آکھڑے ہوں گے ، ان سے بات چیت کون کرے گا .
(۱۹۰۰، خورشید بہو ، ۱۵۷)
پیادوں کو دیکھو رو ہیلوں کے غول
تو دہشت سے بھاگے بیاباں کے غول
سواروں کے آگے پیادے جنگ کے آمادے دیوار فوج تھے .
(۱۸۸۲، طلسم ہوش ربا ، ۱: ۴۶)
دفعۃً ان کے سپاہی ، پیادے جو بظاہر پہلے ہی یہاں چھپے بیٹھے تھے ، نکل پڑے .
(۱۹۵۴، شاید کہ بہار آئی ، ۵۳)
پیادہ شطرنج کا چلتے چلتے فرزین بن جاتا ہے .
(۱۸۴۵، حکایت سخن سنج ، ۲۶)
پہنچ سکتے ہیں کب مجھکو ٹکے گز کی ہے چال ان کی
پیادے اپنی ان چالوں سے فرزیں ہو نہیں سکتے
سر زمین لکھنؤ بھی تختہ شطرنج ہے
کیا پیادہ کیا سوار آسودہ دل گھر میں نہیں
گلِ سوار و پیادہ شکست کھا گئے سب
چمن میں جب تن تنہا وہ شہسوار آیا
یہ حیوان دو قسم کا ہوتا ہے ، ایک قسم کو سوار کہتے ہیں اور یہ ہوا میں اڑتا ہے اور دوسری قسم کو پیادہ کہتے ہیں جو جست کرتا ہے .
(۱۹۷۷، عجائب المخلوقات ، ۵۶۸)