مجنوں ہی ہور لیلیٰ سُکیا فرہاد بی مارگ چھکیا
مجھ سا نہیں جگ میں دُکھیا بندے خدا ملکے خدا
وہی اس کے دل کا سوانت پائے گا
وہی اس کوں مارگ منے لائے گا
بسکہ مارگ بحر و بر کا ہے دراز
بوالہوس اس بات میں آتا ہے باز
اس کھلے مارگ پر چلنے سے تجھے کس نے روکا ہے ۔
( ۱۹۲۱ ، پتنی پرتاپ ، ۱۱ )
میں اب دین چھوڑ پکڑیا اس دین کا مارگ
نپاتے اجھوں موکوں ہندوئے فرخ
سادھنا یوگ کر کے چودہ سال
یوگ مارگ میں پیدا کرکے کمال
آخر گاندھی جی کے چیلوں کی سرکار نیائے مارگ پر تو چلے گی ہی ۔
( ۱۹۷۳ ، بگھلا نیلم ، ۱۳۹ )
پیاسوں عرض دُکھ کہنے نہیں مارگ مگر خیالوں
کہ جیوں پُھل باس مل رکھوال ہیں مج بار دوری ہے
تب نارومن نے اُس کو بھی کچھ اور طرح سے سمجھایا
پھر کنس کو واں اس بات سوا کچھ اور نہ مارگ بن آیا
ہمارے پاس اوس کا بھی مارگ ہے ۔
( ۱۸۷۸ ، نوابی دربار ، ۷۴ )
مارگ تالوں میں تین پرانوں کا ہونا ضروری ہے ۔
( ۱۹۲۷ ، نغمات الہند ، ۸۸ )
تال کی دس قسمیں یا عناصر ہیں ۔۔۔۔۔ کال ، انگ ، کریا ، مارگ ، جاتی ۔
( ۱۹۷۰ ، اردو شاعری میں جدیدیت کی روایت ، ۱۳۷ )