اکثروں میں صدری کا ساز لگا ہوا ہے بعض میں بٹن ہیں.
(۱۸۷۶ ، تہذیب الاخلاق، ۴ : ۱۱)
تہمد میں بٹن جب لگنے لگے جب دھرتی سے پتلون اگا
ہر پیڑ پر اک پہرا بیٹا ہر کھیت میں اک قانون اگا
جب رات آتی ہے تو ہم بٹن دبا کراپنے گھروں میں بجلی روشن کرتے ہیں.
(۱۹۶۸ ، نیا افق نئی منزلیں ، ۱۴)
آوازوں کے حساب سے لِپی جتنی پوری ہوگی ٹائپ رائٹر کے بٹن اتنے ہی زیادہ ہونگے.
(۱۹۷۵ ، ماہنامہ ، الشجاع ، (سالنامہ) ، کراچی ڈاکٹر سہیل بخاری) ، ۴۷)
ریڈیوکی آواز بڑھانے والے بٹن کو پوراگھما دیا.
(۱۹۰۹ ، انتخاب پھول ، ۱۵۲)
سرے میں ایک گھنڈی جڑی ہوتی ہے جو اصطلاحاً بٹن کہلاتی ہے.
(۱۹۳۹ ، ا پ و ، ۱ : ۱۶۸)
بٹن اس مقام پر ہوتا ہے جہاں پستول چلانے کی کمائی ہوتی ہے.
(۱۹۳۵ ، کپڑے کی چھپائی ، ۵۱)