اس مثنوی کا نام ' بولتا ' ہے اور بولتا قدیم زبان میں روح کو کہتے تھے .
(۱۹۴۲ ، دو نایاب زمانہ بیاضین ، ۴۸)
سفر میں بولتا ساتھ ہونے سے بڑا آرام رہتا ہے .
(۱۸۸۶ ، مخزن المحاورات ، ۱۳۰)
سفر میں بولتا ساتھ ہو جہاں چاہا چلم بھر لی .
(۱۹۲۴ ، نور اللغات ، ۱ : ۶۹۷)