بٹنا نگوڑا کہنا بھی کچھ لفظ ہے بھلا
ہم تو یہی کہیں گے اجی ابٹنے کی باس
رستم نے کہا صاحبزادے کوئی بٹنہ بھی تمہارے پاس ہے.
(۱۹۹۸ ، طلسم ہفت پیکر، ۳: ۴۷۳)
دامن سے رشک گل کے اڑی باغ میں جو خاک
بٹنا وہ بن گئی ہے عروس بہار کا
اف: کھیلنا، گھلنا ، گھولنا، ملنا.