دل کی بھڑاس ہجر میں رو کر نکال لے
اچھا نہیں ہے اس قدر اے بیقرار ضبط
سدّرہ سبطِ نبی کا میں ہوا بے وسواس
ٹکڑے ظالم کے اڑائوں گا تو نکلے گی بھڑاس
پھوٹ پھوٹ کے رو چکنے کے بعد... بھڑاس کچھ کم ہوئی .
(۱۹۲۳، دور فلک ، ۷۱)
عشق و محبت کی بھڑا آزادانہ گفتگو میں بہ نسبت سنجیدہ اور مودب گفتگو کے خوب نکلتی ہے .
(۱۸۹۳، مقدمہ شعرو شاعری ، ۱۲۷)
پتھروں میں سے ایک جلا دینے والی بھڑاس نکل رہی تھی .
(۱۹۴۳، دانہ ودام ، ۲۰۲)