ایک روز بادشاہ نے اس ملک کے پروانہ بایں مضمون میرے باپ کو لکھا.
( ۱۸۵۸ ، حدائق انظار ( ترجمہ ) ، ۷۰ )
جو عریضہ لکھتے تھے ، لکھتے ہیں پروانہ وہ اب
انقلاب دہرنے ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا
اس طرح اس نے اپنے چیلوں کو آشادی کا پروانہ دے رکھا تھا .
( ۱۹۵۸ ، ہندوستان کے عہد وسطیٰ کی ایک جھلک ، ۷۲ )
اس کی تقرر کا پرونہ گویا ان کی جیب میں تھا.
( ۱۹۰۶ ، الحقوق و الفرائض ، ۲ : ۴۱۵ )
اس مقدمے میں کس قدر پروانے کس کس کے نام اور کس کس مضنوں کے جاری ہوئے چاہئیں.
( ۱۸۶۴ ، جوہر عقل ، ۸۰ )
عدالت تو متولی پر ایک پروانے کی تعمیل کرائے گی .
( ۱۹۳۲ ، مشاہدات ، ۱۳ )
ریکھا تو سفر روح کو ہوتا ہے اسی سے
کہتے ہیں جسے موت وہ پروانہ ہے اس کا
ساٹن اور کمخواب وغیرہ کی خریداری بازار کے شحنہ سے پروانہ یعنی پرمٹ لے کر کی جائے.
( ۱۹۵۸ ، ہندوستان کے عہد وسطیٰ کی ایک جھلک ، ۱۵۳ )