بڑائی اور سنار اور درزی اور پریزگار مسافر کو نکلے .
( ۱۶۰۵ ، طوطی نامہ (اردو شہ پارے ، ۳۲۷) )
درزی کو الزام دیتے اور کہتے کہ گریبان حرام زادے نے بنایا ہی نہیں .
( ۱۷۷۶ ، طلسم ہو شربا ، ۱ : ۷۰۰ )
میرے والد صاھب درزی تھے بھائی صاحب بھی سرزی تھے .
( ۱۹۷۶ ، تکبیر ، کراچی ، ۲۲ جولائی : ۴۴ )