اسد خانِ اژدھ سو دھایوں ہوا
دھواں گرد میں مل کر گردوں ہوا
یہ سب آتشبازی کیسی ہے کہ نہ جس میں دھواں ہے نہ بُوٹی ہے .
(۱۷۴۲ ، قصہ مہر افروز و دلبر ، ۱۶۱).
اللہ رے سوزِ عشق تری سربلندیاں
زیرِ زمیں جلا میں ، فلک پر دھواں گیا
رونے کی آواز آئی اور ساتھ ہی ایک دُھواں سا اُٹھا.
(۱۹۲۱ ، لڑائی کا گھر ، ۲۹).
درخت ... ماحول کو گرد و غُبار دُھوئیں اور بدبو سے پاک رکھتے ہیں.
(۱۹۸۴ ، سندھ اور نگاہ قدرشناس ، ۱۴۰)