پنچھی کو مچھی کے تیوں تیرا نے
راکھیا ہے ہوا میں حوض خانے
دن یہ جوانی کے کٹے ایسے
باغ میں پنچھی قید ہو جیسے
سوچو تو سہی ، کہاں ہم اور کہاں یہ لڑکی جو ہرنیوں اور پنچھیوں میں پلی بڑھی ہے.
(۱۹۳۸ ، شکنتلا ، اختر حسین ، ۷۵)
وہ نخل خزاں دیدہ ہوں اس دشت میں جس کے
سائے بھی کسی پنچھی نے بسرام نہ پایا
بچہ تو پنچھی بدیسی ہے ، اپنی باٹ کھوٹی مت کرے.
(۱۸۷۷ ، طلسم گوہر بار ، ۱۳۹)
میری دنیا لٹ چکی ، سانس کا پنچھی جب تک آرہا ہے آرہا ہے.
(۱۹۵۸ ، شمع خرابات ، ۱۴۸)