تمہارےصاحب کے اوصاف حمیدہاوراخلاق پسندیدہ سن کر آیا ہوں.
( ۱۸۰۳ء مذہب عشق، نہال چند،۱۴).
اس خاکدان ککواخلاق ذمیمہ کے خس وخاشاک سے پاک کرکے گل وریحاں سے آراستہ کیا جائے.
( ۱۹۲۳ء سیرۃ النبی، ۳: ۷
آپ کے اخلاق اور خوبیوں کا جو شورہے محض صاحب کی ملاقات کی آرزو میں یہاں تک آیا ہوں.
( ۱۸۰۲، باغ وبہار، ۱۲۴ ).
عقل حیران ہے کہ یہ اخلاق اس جانور میں کہاں سے آئے.
( ۱۹۲۸، باقرعلی، باتوں کی باتیں ، ب ).