ہوئی خام جرگے کی سب پختگی
فلک نے عجب دیگ دم پخت کی
یہ گروہ ایک ترکی جرگہ تھا۔
(۱۸۹۸، دعوت اسلا، ۳۲۱).
لوگوں کا یہ فرض تھا کہ وہ کسی دوسرے جرگہ والوں کو بیدار کرتے۔
(۱۹۰۳، ’آفتاب شجاعت‘ ، ۱، ۵ : ۱۹۴).
وہ خود اپنا ایک جرگہ بناتے ہیں ہر جرگہ کا قانون جدا ہوتا ہے۔
(۱۸۸۸، رسالہ، حسن، نومبر، ۱۱).
سب سے اعلیٰ جرگہ شاہی جرگہ کہلاتا ہے۔
(۱۹۷۶، بلوچستان، ۱۷۵).
نہ وے زنجیر کے غل ہیں تہ وے جرگے غزالوں کے
مرے دیوان پن تک ہی رہا معمور ویرانا
ہم ہیں خوشبو سے مہکتا ہوا میدان تتار
جرگہ در جرگہ جہاں چوکڑی بھرتے ہیں غزال
تبریز میں جس جرگے نے باب کو موت کی سزا دی تھی اس کے سامنے باب نے اپنے بعض الہاما پیش کیے تھے جن کی لسانی وادبی غلطیاں ۔ ۔ ۔ سامنے آگئی تھیں۔
(۱۹۶۸، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ۳ : ۸۳۸).
کوئی دشت ایسا کہ تھا سبزہ راز
ہوا دل کش و جرگہ جرگہ شکار