منجملہ طرفین کے ایک کو آسیب و جن و بھوت و پریت و چڑیل سے زحمت ہوگی.
(۱۸۸۰، کشاف النجوم، ۷۵ ).
چڑیلوں یا بھتنیوں کے پاؤں میں پنجہ پیچھے کی طرف اور ایڑی آگے کی طرف ہوتی ہے.
( ۱۹۲۸، افادات سلیم، ۱۴۶ ).
چھوڑتی ہے کب لپٹ جاتی ہے جب زنجیر زلف
ہے چڑیلوں کی صفت حوروں کی صورت ہو تو ہو
ارشد بولا وہ کہتا تھا کہ عصمت چڑیل ہے مجھے تنگ کرتی ہے میں نہیں جاؤں گا.
(۱۹۴۹، خاک اور خون، ۱۹۱ ).
پری تو کوڑی کی کسی کو داغ کھاتی ہے
چڑیل پان کے بیڑے کھڑے چباتی ہے
اچھی خاصی چڑیلیں . . . ہماری نظروں کو دھوکا دیتی ہیں.
( ۱۹۳۲، ریاض، نثر ریاض، ۱۱۴ ).
اگر میاں دل نے اپنی ڈھرے ہپر لگالیا تو پھر بیکاری کے سوا زندگی چڑیل میں رکھا ہی کیا ہے.
( ۱۹۳۵، اودھپنچ، لکھنؤ، ۲۰، ۸: ۹ ).
کون سی بھابی چڑیل چپ رہو، نہیں تو مر کھاؤ گی.
( ۱۹۴۹، خاک وخون، ۳۰۰ ).